حضرت مجدد الف ثانی کے فیض کی ایک جھلک | یہ تعریف میری نہیں
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات سے حاصل ہونے والے ایک خوبصورت ربط نے قرآنِ کریم کی آیت ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ﴾ کو نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع دیا۔ ایک طالبِ علم کی قلبی کیفیت پر مبنی تحریر۔
محمد مظاہر اشرف
8/1/20261 min read
یہ تعریف میری نہیں
الحمد للہ! آج جمعہ کے بیان کے بعد چند احباب نے محبت بھرے انداز میں تعریف کی۔ کسی نے موضوع کو پسند کیا، کسی نے ترتیب کو سراہا، اور کسی نے کہا کہ آج کی گفتگو نے دل پر خاص اثر چھوڑا۔
ان کے حسنِ ظن پر خوشی ضرور ہوئی، لیکن اسی لمحے دل میں ایک خیال بار بار ابھرتا رہا:
"یہ تعریف میری نہیں۔"
یہ احساس کیوں پیدا ہوا؟ اس کی وجہ آج کے بیان کی تیاری میں پوشیدہ ہے۔
میزان کو بھاری کیسے کیا جائے؟
آج کے بیان کا عنوان قرآنِ مجید کی یہ آیت تھی:
﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ﴾
قیامت کے دن ہر شخص یہی چاہے گا کہ اس کا میزان بھاری ہو، کیونکہ قرآن نے بھاری میزان والوں کے لیے ایک ہی جملے میں سب کچھ بیان کردیا ہے:
"وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔"
لیکن سوال یہ تھا کہ آخر وہ کون سے اعمال ہیں جو میزان کو بھاری کرتے ہیں؟
نماز؟
روزہ؟
صدقہ؟
ذکر؟
حسنِ اخلاق؟
ان سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے، مگر میں چاہتا تھا کہ اس سوال کا جواب کسی ایسے انداز میں ملے جو صرف معلومات نہ دے بلکہ ایک جامع تربیتی نقشہ سامنے رکھ دے۔
ایک مکتوب، ایک نیا زاویہ
اسی تلاش کے دوران حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک مکتوب سامنے آیا۔
ابتدا میں مجھے توقع تھی کہ شاید اس میں اس آیت کی تفسیر یا میزانِ اعمال پر کوئی مستقل گفتگو ہوگی، مگر ایسا نہیں تھا۔
حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ نے اس آیت کی شرح نہیں فرمائی تھی۔
انہوں نے تو ایک مخلص مسلمان کی زندگی کے چند بنیادی اصول بیان کیے تھے: ایمان کی سلامتی، اعمالِ صالحہ کی پابندی، ذکرِ الٰہی خصوصاً ذکرِ قلبی کی رغبت، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر خواہش پر مقدم رکھنے کی تلقین۔
میں کچھ دیر انہی ارشادات پر غور کرتا رہا۔
پھر اچانک ایک ربط ذہن میں آیا۔
میں نے اپنے آپ سے کہا:
اگر ایک انسان اپنی زندگی میں یہ صفات پیدا کرلے تو کیا اس کا میزان بھاری نہیں ہوگا؟
یہیں سے پورا بیان ترتیب پانے لگا۔
میں نے محسوس کیا کہ حضرت مجدد رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ اس آیت کی تفسیر نہیں کر رہے، لیکن ان کی تعلیمات درحقیقت اسی آیت کا عملی راستہ دکھا رہی ہیں۔ یوں ان کے ارشادات اور قرآنِ مجید کی اس آیت کے درمیان ایک خوبصورت مناسبت سامنے آگئی۔
اکابر ہمیں کیا دیتے ہیں؟
آج کے بیان کے بعد جب لوگوں نے تعریف کی تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ میرے الفاظ کی نہیں، اس فکر کی قدر کر رہے تھے جو حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات سے حاصل ہوئی تھی۔
تب میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ بعض لوگ یہ کیوں کہتے ہیں:
"آخر بزرگوں نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟"
میرے نزدیک آج کے اس معمولی سے واقعے میں اس سوال کا ایک خوبصورت جواب موجود ہے۔
اکابر ہمیں صرف چند مسائل نہیں بتاتے۔
وہ صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں دیتے۔
وہ ہمیں قرآن کو دیکھنے کا زاویہ دیتے ہیں۔
وہ ہمیں آیات کے درمیان ربط پیدا کرنا سکھاتے ہیں۔
وہ منتشر نصیحتوں کو ایک قرآنی مقصد کے ساتھ جوڑنے کا سلیقہ عطا کرتے ہیں۔
وہ ہمیں سوچنے کی سمت دیتے ہیں۔
اور شاید یہی ان کے فیض کا سب سے بڑا مظہر ہے۔
نسبت کی برکت
دنیا کی ایک سادہ سی مثال لیجیے۔
اگر کسی غریب کے ہاتھ میں کوئی نہایت قیمتی چیز نظر آئے تو بہت سے لوگ اس کی حقیقت پر شبہ کریں گے۔ شاید کہیں سے ملی ہوگی، شاید اصلی نہ ہو، شاید کسی اور کی ہو۔
لیکن اگر معلوم ہوجائے کہ یہی چیز کسی معتبر اور صاحبِ حیثیت شخصیت نے اسے اپنے ہاتھ سے تحفے میں دی ہے تو لوگوں کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ اب وہ نہ صرف اس چیز کی قدر کرتے ہیں بلکہ اس شخص کو بھی احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں، کیونکہ اس کے پیچھے ایک معتبر نسبت موجود ہے۔
علم میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔
اگر ایک معمولی طالبِ علم کوئی عمدہ بات کہے تو سننے والا اسے اس کی ذاتی رائے سمجھ سکتا ہے، لیکن جب وہی بات کسی مجدد، محدث یا ربانی عالم کی طرف منسوب ہو تو اس کی وقعت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اب اس کے پیچھے صدیوں کی علمی امانت، دیانت اور اعتماد کھڑا ہوتا ہے۔
پھر مجھے اپنی تعریف کیوں یاد آئی؟
آج اگر لوگوں نے میرے بیان کو پسند کیا تو اس کی وجہ میری فصاحت نہیں تھی، نہ میری ذہانت۔
حقیقت یہ ہے کہ میں نے کوئی نئی بات ایجاد نہیں کی تھی۔
میں نے صرف حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشادات کو قرآنِ کریم کی ایک آیت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تھی۔
اگر اس کوشش میں کوئی حسن پیدا ہوا، اگر کوئی ربط دلوں کو اچھا لگا، اگر کسی کو اس سے فائدہ پہنچا، تو وہ میرے قلم کا کمال نہیں بلکہ اکابر کی صحبتِ علمی کا اثر ہے۔
تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ:
یہ تعریف میری نہیں۔
یہ اس نسبت کی ہے جس نے مجھ جیسے طالبِ علم کو قرآن کے ایک مضمون پر غور کرنے کا سلیقہ دیا۔
یہ اس فکر کی ہے جس نے منتشر نصیحتوں میں ایک قرآنی ربط دکھایا۔
یہ حضرت مجدد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض کی ایک معمولی سی جھلک ہے۔
میں تو صرف ایک طالبِ علم ہوں، جس نے اکابر کے دسترخوان سے چند لقمے چن کر آگے پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
اگر ان لقموں میں کوئی لذت محسوس ہوئی ہے تو وہ دسترخوان کی ہے، چننے والے کی نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اکابر کی صحیح قدر نصیب فرمائے، ان کے علوم و فیوض سے حقیقی وابستگی عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی ذات پر نہیں بلکہ اپنی نسبتوں پر فخر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
